نڈیا پاکستان جنگ اور کشمیریوں کی امن کی خواہش

برصغیر کے دل میں واقع کشمیر، گزشتہ 77 سال سے ایک

نہ ختم ہونے والی جنگ کی حالت میں جکڑا ہوا ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہر کشیدگی، ہر گولی، ہر بمباری کا مرکز و محور یہی وادی بنی ہوئی ہے۔ لیکن اس تمام جنگی شور و غل میں اگر کوئی سب سے زیادہ پِسا ہے، سب سے زیادہ تباہ ہوا ہے، تو وہ ہے کشمیری عوام۔

کشمیر میں گولی چاہے سرحد کے اِس پار سے چلے یا اُس پار سے، مرنے والے ہمیشہ کشمیری ہی ہوتے ہیں۔ ان کے گھر تباہ ہو جاتے ہیں، ان کے بچے یتیم ہو جاتے ہیں، ان کے خواب خون میں ڈوب جاتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ کبھی بھی مسئلوں کا حل نہیں رہی، نہ پہلے، نہ آج، اور نہ ہی آئندہ ہوگی۔ گولی جب چلتی ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتی کہ سامنے والا کس مذہب کا ہے، کس قوم سے ہے، وہ صرف مارتی ہے — اور مرتا ہمیشہ انسان ہی ہے۔
کشمیریوں کی یہ خواہش کہ انہیں پرامن زندگی جینے دی جائے، کوئی غیر فطری مطالبہ نہیں۔ یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ وہ نہ بھارت سے کچھ مانگ رہے ہیں، نہ پاکستان سے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے اوپر سے جنگ کا یہ بادل ہٹا دیا جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ بچے سکون سے اسکول جائیں، کسان اپنے کھیتوں میں کھیتی کریں، اور ہر خاندان خوشی سے زندگی گزارے۔
بدقسمتی سے، لائن آف کنٹرول (LOC) جسے بھارت اور پاکستان ایک حد بندی تصور کرتے ہیں، دراصل ایک ہی قوم، ایک ہی شناخت، اور ایک ہی تاریخ کو دو حصوں میں بانٹنے والی لکیر ہے۔ آر پار رہنے والے کشمیری ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں، اور سب کی زبان پر ایک ہی فریاد ہے: "ہمیں امن چاہیے!"
اگر انڈیا اور پاکستان اپنی طاقت دکھانا چاہتے ہیں، تو کریں، مگر اپنی سرزمینوں پر، کشمیریوں کے سینے پر نہیں۔ اگر جنگ واقعی ناگزیر ہو چکی ہے، تو پھر وہ بھی ایک ہی بار ہو جائے، تاکہ روز روز مرنے کی اذیت سے کشمیریوں کو نجات ملے۔

Comments

Popular posts from this blog

Charter of Demands Jammu Kashmir Joint Awami Action Committee

"War Between India and Pakistan: The Kashmiri Call for Peace"